Skip to main content

Tabdeli ka safar

 فقیروں کو سلام کرنے کا اثر


ہم ایک سرکاری ملازم ہیں ۔ دنیا داری میں ملوث، بہت سی برائیاں لئے جی رہے تھے ۔ سن 2007 میں ہم اپنے ڈپارٹمنٹ سے ڈیپوٹیشن پر دوسرے ڈپارٹمنٹ میں چلے گئے ۔ اسکے بعد ہماری کیفیت ایک نوکر کی سی ہوگئی کہ افسران کہیں ٹرانسفر ہوتے تو اپنے ساتھ لے جاتے ۔ ہم افسران کے بہت سے کام آتے تھے اس لئے پسندیدہ ماتحت تھے ۔ ہماری شروع سے عادت تھی کہ ہم صبح سب سے پہلے آفس پہنچتے اور سب سے آخر میں سارے کام مکمل کرکے نکلتے تھے چاہے جہاں بھی ہماری پوسٹنگ ہو ۔ اسی دوران ہماری پوسٹنگ ایک دفتر میں ہوئی ۔ جہاں میرے کمرے کے سامنے انٹرنل روڈ تھی اور سامنے فٹ باتھ تھی اور فت پاتھ پر ایک بنچ رکھی تھی ۔ جہاں روز کا معمول تھا کے تین عدد بزرگ وہاں بیٹھے ہوئے ہوتے تھے اور عجیب بات تھی کہ وہ تینوں ساتھ بیٹھے ضرور ہوتے تھے مگر تینوں کی نظریں جھکی ہوئی ہوتی تھیں اور خاموش بیٹھے ہوئے ہوتے تھے میں کئی دن تک دیکھتا رہا ، پھر میرے دل میں ایک دفع آیا کہ میں ان سے جاکے پوچھوں کہ یہ کون لوگ ہیں او ر یہاں کیوں بیٹھتے ہیں ۔

ایک دن میں ان کے پاس گیا اور ان کو سلام کیا اور پھر ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک ہاوٗس کی مسجد میں خادم کا کام انجام دیتے ہیں ، دوسرے نائب قاصد ہیں اور تیسرے والے سینئر کلرک ہیں اور وہ ہاوٗس کے کوارٹروں میں ہی رہتے ہیں فجر کے بعد اس بینچ پر بیٹھ جاتے ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ میں کافی دن سے دیکھ رہا ہوں کہ آپ لوگ ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں مگر ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے ۔ تو یہاں کیا کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک نے جواب دیا کہ ہم کاروبار کرتے ہیں ۔ مجھے یہ جواب سن کر تھوڑا عجیب سا لگا اور پوچھا کہ کون سا کاروبار خاموش بیٹھ کر ہوتا ہے ۔ تو ان میں سے جو مسجد کے خادم تھے انہوں نے جواب دیا کہ ہم جب مالک کا نام لیتے ہیں اور سر سے پاوٗں تک جو نشہ یا سرور ملتا ہے وہ دنیا کی کسی چیز میں نہیں اور نہ ہی اسے دنیا بھر کی دولت کے عوض خریدہ جا سکتا ہے ۔ خیر میں اس دن عجیب سی سوچ لئے دفتر میں بیٹھا اور اس دن سے مجھے اپنے سارے کام اور جو کچھ لینا دینا کرتا تھا ۔ اس سے دل اکتا گیا اور اپنا آپ برا لگنے لگا ۔ اور افسران سے جھگڑا ہونے لگا ۔ اور ایک دن دل میں آیا کہ اگر اتنی محنت میں نے مالک کی خوشنودی کے لئے کی ہوتی تو آج ولی ہوتا ۔

کچھ دن میں نے بہت پریشانی میں گزارے، پھر ایک ایک رات میں جاگتا رہا اور پھر فیصلہ کیا کہ ان حضرات کے پاس جاؤں اور ان سے بات کروں کہ جو اطمینان ان کو مالک نے عطا ء کیا ہے مجھے بھی دلوائیں ۔ دوسرے دن میں صبح ان تین بزرگوں سے ملا اور ان سے درخواست کی کہ مجھے وہ چاہیئے جو آپ کے پاس ہے ۔ ان میں سے موج علی صاحب جو کہ مسجد میں خادم تھے انہوں نے آنکھیں بند کی اور تھوڑی دیر بعد مجھ سے بولے کہ آپ کی درخواست دربارِ رسالتﷺ میں قبول ہوگئی ہے ۔ باقی شراعت رات میں طے کی جائیں گی ۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی ۔ میں نے پوچھا کہ ایسے کیسے آپ یہ کہ سکتے ہیں ۔ تو انہوں نے بولا کہ ہم کو مالک نے اور دربار ِ رسالتﷺ سے عطاء کی گئی ہے کہ ہم رابطہ قائم کرسکتے ہیں ، جیسے آپ لوگ موبائل پر کال کرتے ہیں ۔ خیر دوسرے دن قادر بھائی جو کہ چپراسی تھے بلانے آئے میں گیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ کو بہت سے مشکلات سہنی پڑیں گی ۔ اور اس دورانیہ کا فیصلہ آپ کے صبر پر منحصر ہے ۔ اور آپ کو یہاں سے ٹرانسفر کردیا جائے گا ۔ میں نے عرض کی کہ اےسے یہاں سے ٹرانسفر کیا جائے گا تو تھوڑی بے عزتی ہوگی ۔ اگر پروموشن کے ساتھ ٹرانسفر ہو تو تو تھوڑی عزت ہو جائے گی ۔ تو قادر بھائی بولے کہ منظور ہے ۔ اور قادر بھائی نے بتایا کہ آپ کو ان مشکلات میں اکیلا نہیں چھوڑا جائےگا ۔ قدم قدم پر آپ کو مالک کا ساتھ محسوس کرایا جائیگا ۔ اس رات مجھے ایڈمینسٹریشن سے کال آئی رات کے 12 بج رہے تھے ۔ کہ آپ کا پروموشن ہوگیا ہے اور دوسرے ڈپارٹمنٹ میں ٹرانسفر کردیا گیا ہے ۔ صبج آکر اپنا آرڈر آکر لے جائیں ۔

اس فیصلہ اور حکم کے بعد میرے اندر جو بری اعدات و اطوار موجود تھیں وہ مختلف اوقات میں مختلف واقعات کے ساتھ ختم ہوتی چلی گئیں ۔ سب سے بڑی برائی ، میری شراب نوشی تھی، اور اس قدر تھی کہ ہر وقت نشے میں رہتا تھا ۔ ایک رات میں دیکھا کہ میں کسی کے ساتھ پنجاب میں کسی مزار پر حاضری دی رہا ہوں ۔ پھر یہ خواب تواتر سے تین سے چار راتوں تک نظر آیا ۔ تو میں قادر بھائی کے پاس گیا اور انکو خواب کا بتایا ۔ تو انہوں نے خواب میں دکھائے جانے والے مزار کی کچھ نشانیاں پوچھیں ۔ جب میں نے انکے سوالوں کا جواب دیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ مزار حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر کا ہے ۔ اور آپ کو انکے مزار پر حاضری دینے کے لیئے پیغام دیا جا رہا ہے ۔ آپ جا کر وہاں حاضری دیں ۔ میں دفتر سے شام 5 بجے بھر پہنچا اور طبیعت میں بے چین ہونا شروع ہوگئی ۔ اور اندر سے جیسے کوئی بول رہا ہو کہ ، چلو بابا فریدالدین مسعود گنج شکر کے دربار میں ۔ مجھے علم نہیں تھا کہ انکا مزار کہاں ہے اور کیسے پہنچنا ہے ۔ میں نے ایک دوست سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ حضرت کا مزار پاک پتن میں ہے اور اس کے لئے آپ کو فرید ایکسپریس ٹرین سے جانا ہوگا اور وہ 6;58;30pm کراچی کینٹ سے نکلتی ہے ۔ جس وقت اس نے بتایا اس وقت 5;58;30 بج رہے تھے ۔ میں نے ایک شلوار قمیض پلاسٹک شاپر میں ڈالی اور نکل پڑا گھر سے ۔ ایک ٹیکسی روکی اس سے کہا کہ کینٹ اسٹیشن پہنچا دو، ٹائم بہت تھوڑا ہے ۔ اس نے مجھے بہت جلدی کینٹ اسٹیشن پہنچا دیا ۔ خیر جب میں کینٹ اسٹیشن پہنچا تو معلوم ہوا کہ ٹرین لیٹ ہے ۔ میں ٹکٹ کاوَنٹر پر گیا تو کاوَنٹر والے نے مجھے ٹکٹ دینے سے انکار کردیا ۔ خیر میں پلیٹ فارم پر اس ارادے سے چلا گیا کہ میں ٹرین میں ٹکٹ لے لوں گا ۔

مگر یہ سفر اتنا آسان نہیں رہا ۔ میں پوری رات پلیٹ فارم پر بیٹھا رہا اور مالک کے نام کا ذکر کرتا رہا ۔ اور بار بار معلوم کرنے سے یہی جواب ملتا کہ مزید لیٹ ہے ۔ اس دوران دل میں ایک گوشے سے گھر واپس جانے کا خیال ڈالا جا رہا تھا ۔ دوسری طرف ہمت دلائی جا رہی تھی کہ ۔ نکلے ہو گھر سے تو جانا ضروری ہے ۔ شام کے 6 بجے سے صبح کے 6 بج گئے ٹرین اسٹیشن پر پنجاب سے واپس آئی صبح 6;58;30 بجے اور پھر واشنگ یارڈ گئی ، پھر دوبارہ پنجاب کے سفر پر جانے کے لئے پلیٹ فارم پر 7;58;00 بجے لگی اور چلنے کے 3 منٹ بعد انجن خراب ہوگیا آدھا گھنٹہ انجن بدلنے میں لگا اور پھر ٹرین چلنے لگی ۔ ٹرین میں ہم باتھ روم کے پاس کھڑے ہوگئے کیونکہ نہ تو ہمارے پاس ٹکٹ تھا نہ ہی ہمارے پاس سیٹ تھی ۔ جب ٹکٹ چیکر آیا تو ہم نے اس سے درخواست کے کہ ٹکٹ بھی بنادو اور سیٹ بھی دے دو ۔ تو اس نے ایک سنگل سائیڈ والی سیٹ خالی کرواکر ہ میں بٹھادیا اور بولا کہ واپس آکر ٹکٹ دیتا ہوں ۔ اس کے بعد ٹکٹ چیکر واپس نہیں آیا، اور جب سمر سٹہ اسٹیشن پہنچی تو ایک صاحب ہمارے پاس آئے بھائی خیر تو ہے ، آپ کراچی سے بیٹھے ہو اور پھر یہاں سے اٹھے نہیں ۔ خیر تو ہے ۔ تو ہم نے اس ہمدرد انسان کو بتایا کہ نہ تو ہمارے پاس ٹکٹ ہے، نہ سیٹ، اس لئے میں سیٹ سے نہیں اٹھا، انہوں نے سفر کا مقصد پوچھا تو میں نے انکو بتایا کہ میں بابا صاحب کے دربار حاضری کے لئے جا رہا ہوں پاک پتن ، مجھے خواب میں بلایا گیا ہے ۔ میرا جواب سن کر وہ صاحب بولے کہ آپ جاوَ اور منہ ہاتھ دھوکر آوَ دھواں اور دھول جمی ہوئی ہے آپ کے بالوں میں اور چہرے پر ، میں آپ کے لئے کچھ کرتا ہوں اور وہ صاحب چلے گئے، تھوڑی دیر بعد وہ اپنے ساتھ تین لوگوں کو لے کر آئے ، ان میں سے ایک نے مجھے اپنا لاہور تک کا ٹکٹ دیا اور کہا کہ آپ یہ ٹکٹ رکھو، میں عارف والا پر ٹرین سے اتر کر بس میں لاہور چلا جاوَنگا ۔ دوسرے دو صاحب مجھے بابا صاحب کے مزار پر حاضر ہونے کے آداب سکھانے لگے ۔ اور پھر وہ لوگ چلے گئے ۔ ان کے جانے کے بعد میرے پاس ایک بزرگ آئے ۔ ان کا لباس کچھ اس طرح تھا کہ انہوں نے لندہ کی گلابی رنگ کی پینٹ اور پھٹی ہوئی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔ وہ میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گئے اور ایک منرل واٹر کی بوتل جو انکے پاس تھی اسکی سیل توڑ کر کھولی اور آدھی بوتل پانی پی کر مجھے دی اور بولے پی جاوَ ۔ میں نے ایک گھونٹ پانی پیا تو وہ سمندر کے پانی کی طرح کڑوا اور نمکین تھا ۔ جب میں نے ان کو دیکھا تو مسکرا کر بولے پی جاوَ کھارا پانی پینا سرکارِ مدینہ ﷺ کی سنت ہے ۔ میں پوری بوتل پانی پی گیا ۔ اسکے بعد ٹرین پاک پتن کے اسٹیشن پر رکی ۔ میں اسٹیشن سے باہر نکلا تو میں نے ایک چنجکی رکشہ والے سے بولا کے بابا صاحب کے دربار جانا ہے ۔ تو اس نے بولا چلوجب دربار پہنچ گئے تو میں کرایہ دینے لگا تو وہ بولا کہ آپ مہمان ہیں آپ سے کرایہ نہیں لے سکتا اور چلا گیا ۔ میں حمام میں گیا غسل اور وضو کرنے باہر آیا تو حمام والے نے بھی پیسہ لینے سے انکار کیا کہ آپ مہمان ہیں آپ سے پیسے نہیں لے سکتے ۔ اس وقت رات کے 3 بج رہے تھے ۔ میں دربار میں گیا تو مزار کے کمرے پر تالا لگا ہوا تھا اور وہاں ایک باریش صاحب سفید لباس میں کھڑے تھے اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ آگئے، اور کہا کہ جائیں پہلے 2 رکعت نفل پڑھ لیں ، میں نفل ادا کرکے آیا تو انہوں نے دوسری طرف ایک دروازہ کھولا جس پر سیل لگی ہوئی تھی اور مجھ سے بولے آپ مزار میں جائیں میں باہر آپ کا انتظار کر رہا ہوں ۔ میں مزار میں گیا اور فاتحہ خوانی کرکے تھوڑی دیر مراقبہ کیا تو مراقبہ میں ایک بزرگ نے کہا کہ آپکی مشکل آسان کردی گئی ہے، آئندہ آپ کو محتاط رہنا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ میرا علاج کب ہو تو جواب آیا کہ کھارا پانی سرکارِ مدینہﷺ کی سنت ہے تو مجھے ٹرین میں ملے بزرگ یاد آگئے کہ جنہوں نے مجھے کھارا پانی پلایا تھا ۔ میں فاتحہ خوانی کے بعد باہر آیا تو باہر موجود صاحب نے کہا کہ آپ ابھی آرام کریں ۔ صبح آپکو مزار کے دروازے پر خانیوال کے لئے گاڑی مل جائے گی ۔ آپ خانیوال سے کراچی کی ٹرین لے لیجئے گا ۔ میں صحن میں آیا تو وہاں ایک صاحب بیٹھے تھے اور انہوں نے کہا کہ آپ یہاں سو جائیں میں آپ کے سامان کی رکھوالے کر رہا ہوں ۔ میں سوگیا، فجر کی آذان کی آواز پر میری آنکھ کھل گئی ۔ میں اٹھا تو وہ صاحب اور مجھ سے بولے اجازت ہے اور چلے گئے ۔ میں نے نمازِ فجر ادا کی اور مزار سے باہر نکلا تو مزار کے دروازے سے باہر نکلا تو باہر ایک ویگن کھڑی تھی خانیوال کی آواز لگا رہی تھی ۔ جیسے ہی میں بیٹھا تو ویگن اسٹارٹ ہوئی اور مجھے خانیوال اسٹیشن کے باہر اتار کر چلی گئی ۔ خانیوال سے مجھے شالیمار میں برتھ ملی اور میں آرام سے کراچی پہنچ گیا ۔

خیر اسکے بعد میں کراچی آیا ، دوسرے دن میرے پاس موجود امپورٹڈ شراب کو ضائع کرنے اور نالی میں بہانے کے لئے ایک بوتل کا ڈھکن کھولا تو مجھے متلی آنے لگی ۔ میں نے سوچا کہ جو چیز میں روز پیتا تھا ۔ آج صرف ایک سفر کے بعد اس کی بدبو سے متلی آنے لگی ۔ خیر حضرت کے مزار پر حاضری کے بعد میں نے کبھی شراب نہیں پی ۔ نہ ہی اسکی کبھی طلب محسوس کی ۔ اس طرح مجھے مختلف اوقات میں مختلف مزارات پر حاضری کے لئے بلوایا جاتا رہا، اور مختلف بری عادتوں سے چھٹکارا ملتا رہا ۔ فیصلہ کے تحت ، مشکلات کا دور مجھ پر 4 سال تک رہا اور اس دوران بہت سے واقعات ہوتے رہے جس میں مالک کی طرف سے مسلسل عندیہ ملتا رہا کہ وہ میرے ساتھ ہے ۔ اور مشکل وقت آسانی سے گزر گیا ۔ اس عرصہ میں جو لوگ مجھے پہلے جانتے تھے ۔ انکی نظر سے دیکھنے سے میں بدل گیا تھا ۔ میرے تمام بری عادتیں ختم ہوگئی تھیں ۔ لوگوں سے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوگیا تھا ۔ ۔ جو حرام کی کمائی جمع تھی وہ حکم کے مطابق غریبوں میں تقسیم کردی تھی ۔ اور صرف ماہانہ تنخواہ میں گزارہ کرنے لگا، مگر اس کے دوران ایک بات کا اندازہ ہوا کہ جب سے میں نے اپنی جائز کمائی پر انحصار شروع کیا ہے اس دن سے گھر میں کوئی چیز خراب نہیں ہوئی، نہ ہے گھر میں کسی کو کوئی ایسی بیماری لگی جس میں کوئی اخراجات ہوں ۔ ایک بجٹ بن گیا ۔ کسی کام سے پہلے اسکے لئے پیسے کا انتظام کہیں نہ کہیں سے ہوجاتا اور پتہ ہی نہیں چلتا ۔ اللہ کے ذکر اور نماز میں ایک ایسا سرور حاصل ہونا شروع ہوگیا کہ جس کا اظہار کرنا مشکل ہے ۔ آج مجھے اندازہ ہوا کہ وہ تین بزرگ کس لئے خاموش بیٹھے رہتے تھے، اور کیوں انہوں نے ،مالک کے ذکر کرنے کو کاروبار کہا تھا ۔ واقعی مالک کے زکر سے بہتر سرور انگیز نشہ کسی چیز میں ۔ نہیں ۔ یہی بہترین کاروبار ہے ۔

تو جناب ، ہم میں تبدیلی آنے کی وجہ جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو جا کر مالک کے قربت یافتہ بزرگوں کو جو سلام کیا تھا اور انہوں نے جو ہم پر واپس مالک کی سلامتی بھیجی تھی یعنی سلام کا جواب دیا تھا ۔ اس نے ہماری ذندگی کو بدل کر رکھ دیا تھا ۔ اور آج ہم کچھ اور ہیں ۔

ہماری تبدیلی کے دوران ہ میں بہت سے بزرگوں کے مزارات میں بلایا گیا، ہماری اصلاح کی گئی ۔ ہر مزار میں حاضری اور پیش آنے والے واقعات بہت مختلف ہیں ۔ ہ میں سندہ ، پنجاب اور صوبہ سرحد کے بہت سے مزارات پر بلوایا گیا جن میں بہت سی مشہور ہستیوں کے مزارات ہیں اور کچھ ایسے حضرات کے مزار ہیں جو کے دنیا کی نگاہوں سے دور ہیں ۔ اس دوران ہمارے علم میں یہ بات بھی آئی کہ صوبہ سندھ کی دینِ اسلام کی سربلندی میں بہت اہم کردار رہا ہے ۔ اور مستقبل میں بھی بہت اہم کردار رہے گا ۔ صوبہ سند میں بہت سے اصحابہ کرام کے مزارات بھی موجود ہیں ، جو مختلف ادوار میں سندہ میں تشریف لائے اور دین کی خدمت کرتے ہوئے یہاں ہی اپنی ذندگی تمام کی اور ان کی قبریں بھی یہیں موجود ہیں ۔ میری کوشش ہے کہ میں اپنی اس تبدیلی کے سفر میں جن مزارات پر حاضری دی ہے انکا احوال بھی لکھوں ۔ جتنی تٖفصیل بتانے کی اجازت ملے گی اتنی تفصیل میں گوش گزار کروں گا ۔ کیونکہ کچھ ایسے چیزیں ہیں کہ اگر کم علم پڑھے گا تو کہیں شرک نہ کرنے لگے ۔

Comments